تحریر و ترتیب: آغا زمانی
حوزہ نیوز ایجنسی| تاریخ کے طویل سفر میں بعض اوقات ایسے چراغ روشن ہوتے ہیں جن کی روشنی صدیوں کے فاصلے طے کرنے کے باوجود مدھم نہیں پڑتی۔ کچھ آوازیں ایسی ہوتی ہیں جو زمانے کی گرد میں دبنے کے بجائے ہر دور میں نئے سوالات کے ساتھ انسان کے ضمیر کو مخاطب کرتی رہتی ہیں۔ کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جنہیں تاریخ اپنے صفحات میں محفوظ تو کر لیتی ہے مگر ان کے افکار کی وسعت کو سمجھنے میں نسلیں گزر جاتی ہیں اور کچھ کتابیں ایسی ہوتی ہیں جو محض پڑھی جانے کے لیے نہیں بلکہ انسان کے اندر ایک نئی دنیا آباد کرنے کے لیے وجود میں آتی ہیں۔
نہج البلاغہ بھی ایسی ہی ایک کتاب ہے۔
یہ محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، فکر کا ایک سمندر ہے۔ یہ صرف خطبات، خطوط اور مختصر حکیمانہ اقوال کی کتاب نہیں بلکہ انسانی شعور کو بیدار کرنے، کردار کو سنوارنے، معاشرے کو انصاف کا راستہ دکھانے اور انسان کو اس کی حقیقی ذمہ داریوں سے آشنا کرنے والا ایک عظیم فکری مکتب ہے۔
اس کے صفحات کھولتے ہی محسوس ہوتا ہے جیسے تاریخ کے کسی روشن مینار سے ایک ایسی آواز بلند ہو رہی ہو جو زمان و مکان کی حدود سے آزاد ہو کر آج کے انسان سے مخاطب ہے۔ کبھی یہ آواز اسے خدا کی معرفت کی طرف بلاتی ہے، کبھی اس کے نفس کے پوشیدہ گوشوں میں جھانکنے کی دعوت دیتی ہے، کبھی حکمرانوں کو اقتدار کی حقیقت سمجھاتی ہے، کبھی محروموں کے حقوق یاد دلاتی ہے اور کبھی معاشرے کے ضمیر سے سوال کرتی ہے کہ تم نے انسان کو انسان سمجھنا کب سیکھا؟
یہ آواز مولائے متقیان امیرالمؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی ہے۔
اور یہی آواز نہج البلاغہ کے ذریعے آج بھی دنیا کے ضمیر پر دستک دے رہی ہے۔
محبتِ علی کو عملی زندگی میں تبدیل کرنے کا راستہ
ذرا ایک لمحے کے لیے اپنے معاشرے کا تصور کیجیے۔
ایک ایسا معاشرہ جہاں حضرت علی علیہ السلام سے محبت ایمان و عقیدت کا حصہ ہو۔ جہاں ان کے نام پر محافل سجتی ہوں، ان کی شجاعت کے واقعات سنائے جاتے ہوں، ان کے فضائل بیان ہوتے ہوں، ان کی ولایت کے تذکرے ہوتے ہوں اور ان کے مصائب پر آنکھیں اشک بار ہوتی ہوں۔
لیکن اسی معاشرے میں ایک سوال خاموشی سے سر اٹھاتا ہے۔۔
کیا ہم نے کبھی یہ جاننے کی کوشش کی کہ حضرت علی نے حکمرانوں کو کیا نصیحت کی؟ عوام کے حقوق کے بارے میں کیا فرمایا؟ عدل و انصاف کا معیار کیا مقرر کیا؟ ایک باپ کو اپنی اولاد کی تربیت کے لیے کیا وصیت کی؟ ایک معاشرے کو جہالت، تعصب، ظلم اور ناانصافی سے نکالنے کے لیے کیا اصول دیے؟ دولت، اقتدار، علم، اخلاق، عبادت اور انسانی تعلقات کے بارے میں ان کی فکر کیا ہے؟
کیا ہم نے کبھی ان کے خطبات کو اپنی علمی مجالس کا موضوع بنایا؟ ان کے مکتوبات کو اپنے تعلیمی اداروں میں پڑھایا؟ ان کے حکیمانہ کلمات کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنایا؟
یہ سوالات کسی کی عقیدت کو چیلنج کرنے کے لیے نہیں بلکہ ہماری عقیدت کو معرفت کی منزل تک پہنچانے کے لیے ہیں۔
محبت اپنی جگہ ایک عظیم جذبہ ہے لیکن محبت جب علم سے محروم ہو جائے تو اکثر محض جذباتی وابستگی بن کر رہ جاتی ہے۔ جب محبت معرفت سے جڑتی ہے تو شعور پیدا ہوتا ہے، شعور کردار میں ڈھلتا ہے اور کردار معاشرے کی تعمیر کا ذریعہ بنتا ہے۔
حضرت علی علیہ السلام سے محبت کا حقیقی تقاضا یہ بھی ہے کہ ہم ان کے افکار کو سمجھیں، ان کے کردار سے سیکھیں اور ان کی تعلیمات کو اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی میں جگہ دیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں نہج البلاغہ محض ایک کتاب نہیں رہتی بلکہ محبتِ علی کو عملی زندگی میں تبدیل کرنے کا ایک راستہ بن جاتی ہے۔
ایسا کلام جس کی آشنائی سے انسانیت کی تقدیر بدل سکتی ہے
اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات کی عالمگیر تاثیر کے حوالے سے امام رضا علیہ السلام کا ایک مختصر مگر نہایت گہرا فرمان ہماری فکری رہنمائی کرتا ہے:لَوْ عَلِمَ النَّاسُ مَحَاسِنَ كَلَامِنَا لَاتَّبَعُونَا
ترجمہ: اگر لوگ ہمارے کلام کی خوبصورتیوں اور خوبیوں سے آگاہ ہو جائیں تو یقیناً ہماری پیروی کریں گے۔
یہ فرمان اپنے اندر ایک مکمل دعوتی فلسفہ سموئے ہوئے ہے۔
اس میں ایک حقیقت بیان ہوئی ہے کہ اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات کی تاثیر صرف ان کے ماننے والوں تک محدود نہیں۔ ان کے کلام میں ایسی حکمت، معرفت، اخلاقی بلندی اور انسانی فلاح کا پیغام موجود ہے جو ہر صاحبِ عقل و شعور انسان کو اپنی طرف متوجہ کر سکتا ہے۔
لیکن اس فرمان کے ساتھ ہی ایک سوال بھی جنم لیتا ہے کہ اگر یہ تعلیمات اتنی عظیم اور انسانیت کے لیے اتنی مفید ہیں تو دنیا ان سے پوری طرح مستفید کیوں نہیں ہو رہی؟
اس سوال کا جواب امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے اس حکیمانہ فرمان میں ملتا ہے:النَّاسُ أَعْدَاءُ مَا جَهِلُوا
ترجمہ: لوگ اس چیز کے دشمن ہوتے ہیں جس سے وہ ناواقف ہوتے ہیں۔
یہ انسانی نفسیات کا ایک بنیادی اصول ہے۔ انسان اکثر اس حقیقت کی مخالفت کرتا ہے جسے اس نے سمجھا نہ ہو۔ کسی نظریے، شخصیت یا فکر کے بارے میں اس کی رائے بہت مرتبہ حقیقی معلومات کے بجائے سنی سنائی باتوں، غلط فہمیوں اور نامکمل تعارف پر قائم ہوتی ہے۔
لہٰذا اگر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا اہلِ بیت کے افکار سے آشنا ہو، ان کی تعلیمات کو سمجھے اور ان کی پیروی کی طرف متوجہ ہو تو ہمیں سب سے پہلے اس علمی سرمایہ کو دنیا کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔
محض اپنی عظمت کا دعویٰ کافی نہیں ہوتا، عظمت کے علمی دلائل، فکری پہلو اور عملی نمونے بھی پیش کرنا پڑتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ نہج البلاغہ کی ترویج صرف ایک مذہبی سرگرمی نہیں بلکہ ایک علمی، فکری، اخلاقی اور انسانی ذمہ داری ہے۔
نہج البلاغہ ایک فکری کائنات
نہج البلاغہ کی تدوین کا اعزاز سید رضی علیہ الرحمہ کو حاصل ہے، جنہوں نے امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے منتخب خطبات، مکتوبات اور حکیمانہ کلمات کو ایک علمی ترتیب کے ساتھ جمع کیا۔
اس کتاب کے تین بنیادی حصے ہیں:
خطبات: ان میں توحید، معرفتِ الٰہی، تخلیقِ کائنات، بعثتِ انبیاء، انسانی زندگی، اخلاق، سیاست، عدل، تقویٰ، موت اور آخرت جیسے موضوعات پر گہری گفتگو ملتی ہے۔ یہ خطبات انسان کے ذہن کو سوال کرنے، کائنات پر غور کرنے اور اپنی زندگی کے مقصد کو پہچاننے کی دعوت دیتے ہیں۔
مکتوبات: ان میں حکمرانوں، گورنروں، عہدیداروں، مخالفین اور مختلف افراد کے نام خطوط شامل ہیں۔ یہ خطوط سیاسی بصیرت، انتظامی حکمت، اخلاقی اصول، انسانی حقوق اور اجتماعی ذمہ داریوں کا ایک وسیع علمی ذخیرہ ہیں۔
کلماتِ قصار: یہ مختصر مگر نہایت جامع حکیمانہ اقوال ہیں، جن میں انسانی کردار، علم، جہالت، دنیا، آخرت، تعلقات، معاشرت، اخلاق اور زندگی کے مختلف پہلوؤں پر ایسی گہری باتیں بیان ہوئی ہیں جو چند الفاظ میں فکر کے کئی جہان آباد کر دیتی ہیں۔
نہج البلاغہ کے بارے میں ایک معروف تعبیر بیان کی جاتی ہے:فَوْقَ كَلَامِ الْمَخْلُوقِ وَدُونَ كَلَامِ الْخَالِقِ
یعنی مخلوق کے کلام سے بلند اور خالق کے کلام سے فروتر۔
یہ تعبیر اس کے ادبی، فکری اور معنوی مقام کو بیان کرتی ہے۔ اس کے الفاظ میں فصاحت و بلاغت، مضامین میں گہرائی اور اسلوب میں ایسی تاثیر ہے جو انسان کو محض مطالعے کا لطف نہیں دیتی بلکہ اسے اپنے وجود، اپنے کردار اور اپنے گردوپیش کی دنیا پر غور کرنے پر مجبور کرتی ہے۔
اس کتاب کا ایک عجیب وصف یہ بھی ہے کہ اس کے بعض خطبات پر مستقل علمی کتابیں لکھی جاسکتی ہیں، اس کے بعض خطوط پر حکمرانی اور سیاسیات کے پورے نصاب مرتب ہوسکتے ہیں اور اس کے چند مختصر کلمات انسانی نفسیات اور اخلاقیات کے کئی پیچیدہ مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ نہج البلاغہ کو صرف ایک مذہبی کتاب کے محدود دائرے میں رکھنا اس کے پیغام کی وسعت کو کم کرنے کے مترادف ہوگا۔
قرآن اور نہج البلاغہ، ہدایت کے دو روشن دریچے
قرآن مجید انسانیت کے لیے کتابِ ہدایت ہے۔ یہ زندگی کا مقصد، بندگی کا راستہ، اخلاقی اصول، اجتماعی ذمہ داریاں اور انسانی فلاح کے بنیادی ضابطے عطا کرتا ہے۔
قرآن کے معارف کو سمجھنے، اس کی تعلیمات میں گہرائی تک پہنچنے اور ان کے عملی تقاضوں کو جاننے کے لیے اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔
نہج البلاغہ اسی اعتبار سے ایک غیر معمولی علمی سرمایہ ہے۔ اس میں قرآنی معارف، توحید، تقویٰ، عدل، آخرت، انسانی ذمہ داری اور اجتماعی اصلاح کے موضوعات پر ایسے خطبات اور کلمات موجود ہیں جو انسان کو قرآن کی تعلیمات پر غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں۔
اسی لیے اسے قرآن کے معارف سے قربت پیدا کرنے والی ایک اہم علمی و فکری کتاب کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
اس کے مطالعے سے انسان کو صرف مذہبی معلومات حاصل نہیں ہوتیں بلکہ قرآن کے پیغام کو زندگی کے مختلف شعبوں سے مربوط کرنے کی فکری صلاحیت بھی پیدا ہوتی ہے۔
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب ہمارے پاس قرآن مجید موجود ہے، اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات موجود ہیں اور نہج البلاغہ جیسا عظیم علمی سرمایہ موجود ہے تو پھر ہماری اجتماعی زندگی میں ان تعلیمات کے عملی اثرات اتنے محدود کیوں دکھائی دیتے ہیں؟
شاید اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہم نے ان کتابوں کو احترام کے ساتھ محفوظ تو رکھا مگر ان کے افکار کو اپنی زندگی میں پوری طرح منتقل نہیں کیا۔
کتاب کا احترام اپنی جگہ لیکن کتاب کے پیغام کو زندگی میں نافذ کرنا اس سے بھی بڑی ذمہ داری ہے۔
حکمرانی کا وہ منشور جسے دنیا پڑھ سکتی ہے
نہج البلاغہ کے مکتوبات میں مصر کے گورنر مالک اشتر کے نام حضرت علی علیہ السلام کا خط ایک غیر معمولی مقام رکھتا ہے۔
یہ خط کسی ایک زمانے کے گورنر کے لیے انتظامی ہدایات کا مجموعہ نہیں بلکہ حکمرانی، عوامی حقوق، عدل و انصاف، انسانی وقار اور اجتماعی فلاح کا ایک عظیم منشور ہے۔
اس خط کا مطالعہ کرتے ہوئے محسوس ہوتا ہے جیسے ایک عادل حکمران اپنے بعد آنے والے تمام حکمرانوں سے مخاطب ہو۔
اقتدار کو ذاتی برتری نہ سمجھو، اسے امانت سمجھو۔ عوام کو رعایا نہیں بلکہ اپنے جیسے انسان سمجھو۔ ان کے ساتھ شفقت، انصاف اور رحم کا معاملہ کرو۔ معاشرے کے کمزور، محروم، نادار اور بے سہارا طبقات کو اپنی خصوصی توجہ کا مرکز بناؤ۔
اس خط میں حکمران کو یہ احساس دلایا گیا ہے کہ عوام کے دلوں میں جگہ بنانا محض انتظامی طاقت سے ممکن نہیں بلکہ عدل، خدمت، دیانت اور حسنِ سلوک سے ممکن ہوتا ہے۔
اس کا ایک بنیادی پیغام یہ ہے کہ حکمران عوام پر حکومت کرنے کے لیے نہیں بلکہ عوام کے حقوق کی حفاظت اور ان کی فلاح کے لیے ہوتا ہے۔
یہ تصور آج کی دنیا کے سیاسی اور انتظامی نظاموں کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
آج جب دنیا بدعنوانی، طبقاتی تفریق، معاشی استحصال، سیاسی مفادات، اختیارات کے ناجائز استعمال اور انسانی حقوق کی پامالی جیسے مسائل سے دوچار ہے تو مالک اشتر کے نام خط کا مطالعہ ایک نئی معنویت اختیار کر لیتا ہے۔
ذرا تصور کیجیے کہ اگر ہمارے حکمران، سیاست دان، انتظامی افسران، قانون ساز اداروں کے نمائندے اور سماجی رہنما اس خط کا باقاعدہ مطالعہ کریں تو حکمرانی کے بارے میں ان کی سوچ میں کتنی تبدیلی آسکتی ہے۔
اگر ایک سرکاری افسر اپنے منصب کو خدمت سمجھنے لگے، ایک سیاست دان عوامی اعتماد کو امانت تصور کرے، ایک تاجر اپنے کاروبار میں دیانت کو بنیادی اصول بنائے اور ایک صاحبِ اختیار کمزور انسان کے حق کو اپنی ذمہ داری سمجھے تو معاشرے کی بنیادیں بدل سکتی ہیں۔
یہی نہج البلاغہ کا وہ پہلو ہے جسے دنیا کے علمی، سیاسی، سماجی اور انتظامی حلقوں تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔
امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی شخصیت شجاعت سے عدالت اور عبادت سے انسان دوستی تک
حضرت علی علیہ السلام کی شخصیت انسانی تاریخ کا ایک ایسا روشن باب ہے جسے کسی ایک وصف میں محدود نہیں کیا جاسکتا۔
آپ علیہ السلام میدانِ جنگ میں شجاعت و بہادری کا استعارہ ہیں تو محرابِ عبادت میں بندگی و خشوع کا نمونہ۔ آپ علم و حکمت کے بلند مقام پر فائز ہیں تو محروموں اور بے کسوں کے درمیان ایک ہمدرد انسان کی صورت میں دکھائی دیتے ہیں۔
آپ کی عدالت کا یہ عالم ہے کہ اپنے قریبی تعلقات بھی انصاف کے اصولوں پر اثرانداز نہیں ہوتے۔ آپ کی عبادت کا یہ مقام ہے کہ دنیا کی تمام مصروفیات کے باوجود خدا کے حضور بندگی کا حق ادا کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے۔
آپ کی شجاعت صرف تلوار کی قوت نہیں بلکہ حق کے لیے ڈٹ جانے کا نام ہے۔ آپ کا علم صرف معلومات کا ذخیرہ نہیں بلکہ حکمت، بصیرت اور معرفت کا سرچشمہ ہے۔ آپ کا زہد صرف دنیا سے دوری نہیں بلکہ دنیا کی محبت کو اپنے دل پر غالب نہ آنے دینے کا نام ہے۔
یہی جامعیت آپ کو انسانیت کے لیے ایک منفرد نمونۂ عمل بناتی ہے۔
لیکن ہماری اجتماعی کوتاہی یہ رہی ہے کہ ہم نے بعض اوقات حضرت علی کی شخصیت کے چند نمایاں پہلوؤں کو تو خوب بیان کیا مگر ان کی علمی، اخلاقی، تربیتی، سماجی اور سیاسی تعلیمات کو عام کرنے میں وہ تسلسل پیدا نہیں کیا جس کی ضرورت تھی۔
ہم نے ان کی شجاعت کے واقعات تو نئی نسل کو سنائے مگر یہ کم بتایا کہ ایک بہادر انسان کو عادل، بااخلاق، دیانت دار، علم دوست اور ذمہ دار شہری بھی ہونا چاہیے۔
ہم نے ان کی عبادت کا ذکر کیا، مگر عبادت کے ساتھ حقوق العباد کی اہمیت کو ان کی تعلیمات کی روشنی میں کس حد تک عام کیا؟
ہم نے ان کی عدالت کی داستانیں بیان کیں مگر اپنے گھروں، اداروں، کاروبار اور اجتماعی معاملات میں عدل قائم کرنے کے لیے ان سے کتنا سیکھا؟
یہی وہ سوالات ہیں جن کا جواب تلاش کرنے کے لیے نہج البلاغہ کا مطالعہ ناگزیر ہے۔
بلتستان عقیدت کی سرزمین اور معرفت کی نئی منزل
بلتستان کی سرزمین اپنے دینی، علمی اور تہذیبی تشخص کے حوالے سے ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔
یہاں کی فضاؤں میں اہلِ بیت علیہم السلام سے محبت کی خوشبو رچی بسی ہے۔ یہاں مساجد، امام بارگاہیں، مدارس، علمی مجالس اور دینی اجتماعات ایک مضبوط مذہبی روایت کے امین ہیں۔ یہاں نسل در نسل عقیدت، وابستگی اور دینی شناخت کو منتقل کرنے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں۔
لیکن ہر معاشرہ وقت کے ساتھ نئے سوالات اور نئے چیلنجز سے دوچار ہوتا ہے۔ عقیدت کی مضبوط بنیادوں کو علمی شعور سے مستحکم کرنا اور روایتی وابستگی کو فکری پختگی میں تبدیل کرنا ہر دور کی ضرورت ہوتی ہے۔
آج بلتستان کا نوجوان پہلے سے زیادہ وسیع دنیا سے رابطے میں ہے۔ وہ کالجوں، یونیورسٹیوں اور جدید تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر رہا ہے۔ اس کے سامنے فلسفے، سیاست، معیشت، سماجیات، انسانی حقوق، جدید ٹیکنالوجی اور مختلف فکری نظریات کی دنیا کھلی ہوئی ہے۔
اس کے ذہن میں سوالات ہیں۔ وہ زندگی کے مقصد کو سمجھنا چاہتا ہے۔ وہ جاننا چاہتا ہے کہ دین اور جدید دنیا کا تعلق کیا ہے؟ عدل کا حقیقی مفہوم کیا ہے؟ ایک اچھے انسان کی پہچان کیا ہے؟ معاشرے میں اس کی ذمہ داری کیا ہے؟ علم حاصل کرنے کا مقصد کیا ہے؟ اقتدار اور طاقت کو کس طرح استعمال ہونا چاہیے؟
اگر ہم اس نوجوان کو اپنے علمی ورثے سے آشنا نہیں کریں گے تو اس کے فکری سوالات کے جوابات تلاش کرنے کے لیے وہ لازماً دوسرے دروازوں پر دستک دے گا۔
اس لیے ضروری ہے کہ ہم اسے نہج البلاغہ جیسے عظیم علمی سرمایے سے متعارف کرائیں۔
یہ تعارف محض کتاب کا نام بتانے تک محدود نہ ہو بلکہ اس کے مضامین کو آسان زبان، مستند تشریح، علمی استدلال اور عصرِ حاضر کی مثالوں کے ذریعے اس کے ذہن تک پہنچایا جائے۔
بلتستان کی دینی و علمی روایت کو نئی فکری وسعت دینے کے لیے یہ ایک اہم ضرورت ہے۔
سکردو کی پہلی نہج البلاغہ کانفرنس ایک علمی دستک
انہی احساسات، سوالات اور فکری ضروریات کے پس منظر میں سکردو کی سرزمین پر ایک اہم علمی و فکری سرگرمی کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔
مرکز افکارِ اسلامی کے زیرِ اہتمام 18 اکتوبر 2026ء بروز اتوار، سہ پہر 2 بجے، جامعۃ النجف سکردو کے علامہ اقبال آڈیٹوریم میں پہلی نہج البلاغہ کانفرنس منعقد ہو رہی ہے۔
اس علمی کاوش میں مرکزی انجمنِ امامیہ بلتستان، اسوہ ایجوکیشن سسٹم بلتستان اور جامعۃ النجف سکردو معاونت کررہے ہیں۔
یہ کانفرنس بلتستان میں اپنی نوعیت کی پہلی کوشش ہے، جس کا مقصد نہج البلاغہ کے علمی، ادبی، فکری، اخلاقی اور عرفانی معارف کو اہلِ علم و دانش کے ساتھ ساتھ عام معاشرے تک پہنچانا ہے۔
لیکن اس اجتماع کی اصل اہمیت صرف اس بات میں نہیں کہ مختلف علماء، دانشور اور اہلِ فکر ایک جگہ جمع ہوں گے، بلکہ اس کا حقیقی مقصد ایک ایسے فکری سفر کا آغاز ہے جس میں نہج البلاغہ کو دوبارہ ہماری علمی، تعلیمی اور معاشرتی زندگی کا حصہ بنایا جا سکے۔
یہ کانفرنس دراصل ایک سوال اٹھا رہی ہے:
کیا ہم اپنے اس عظیم علمی ورثے سے واقعی آشنا ہیں؟
کیا ہم نے حضرت علیؑ کے فرامین کو اپنی نئی نسل تک پہنچانے کے لیے کوئی منظم نظام تشکیل دیا ہے؟
کیا ہماری درسگاہوں میں نہج البلاغہ کے مطالعے کی کوئی مستقل روایت موجود ہے؟
کیا ہمارے نوجوان جانتے ہیں کہ اس کتاب میں انسانی حقوق، حکمرانی، اخلاقیات، معاشرت، تربیت، علم اور معرفت کے کتنے عظیم خزانے موجود ہیں؟
یہ سوالات اس کانفرنس کے فکری پس منظر کو واضح کرتے ہیں۔
اہلِ علم کے پیغامات ایک مشترکہ فکری آواز
اس کانفرنس کے حوالے سے مختلف علمی و دینی شخصیات کی جانب سے سامنے آنے والے پیغامات میں ایک مشترکہ احساس نمایاں ہے یعنی نہج البلاغہ کو ہماری اجتماعی زندگی میں دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔
ان پیغامات میں اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات میں انسانیت کی فلاح اور ہدایت کے ایسے اصول موجود ہیں جن سے پوری دنیا استفادہ کرسکتی ہے۔ لیکن ان تعلیمات کی تاثیر اسی وقت عام ہو سکتی ہے جب انہیں دنیا کے سامنے مؤثر علمی اور فکری انداز میں پیش کیا جائے۔
اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ نہج البلاغہ کے خطبات، مکتوبات اور کلماتِ قصار محض مطالعے کے لیے نہیں بلکہ انسانی زندگی کے مختلف شعبوں میں رہنمائی حاصل کرنے کے لیے ہیں۔
اس کے مضامین میں توحید و معرفت کے دریا بھی ہیں، اخلاق و تربیت کے چشمے بھی، حکمرانی و سیاست کے اصول بھی اور عرفان و حکمت کے ایسے موتی بھی جن پر مسلسل علمی تحقیق کی ضرورت ہے۔
ایک اہم فکری نکتہ یہ بھی سامنے آیا کہ حضرت علی علیہ السلام کی حقیقی سیرت کو سمجھنے کے لیے ان کے اپنے فرامین سے رجوع کرنا ضروری ہے۔ ان کی عبادت، تقویٰ، زہد، شجاعت، سیاسی بصیرت، عدل اور دینی جدوجہد کو سمجھنے کے لیے نہج البلاغہ ایک بنیادی علمی وسیلہ ہے۔
اسی طرح اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ نہج البلاغہ ہمارے معاشرے میں حتیٰ کہ بعض علمی حلقوں میں بھی محجور ہے۔
یہ محجوریت صرف کتاب کے کم پڑھے جانے کا نام نہیں بلکہ اس کے افکار کو اجتماعی زندگی سے دور رکھنے کا نام بھی ہے۔
جب ہماری تقریروں میں عدل کا ذکر ہو مگر ہمارے معاملات میں عدل نہ ہو، جب ہماری محافل میں اخلاق کی بات ہو مگر ہمارے رویوں میں اخلاقی کمزوریاں موجود ہوں، جب ہم علم کی عظمت بیان کریں مگر علمی مطالعے سے دور رہیں تو یہ دراصل تعلیمات کی عملی محجوریت ہے۔
یہی احساس اس علمی اجتماع کے پیچھے کارفرما دکھائی دیتا ہے کہ نہج البلاغہ کو دوبارہ ہمارے گھروں، درسگاہوں، علمی مجالس، تعلیمی اداروں اور اجتماعی مکالموں میں جگہ ملنی چاہیے۔
نئی نسل جس کے ہاتھوں میں مستقبل کی تعمیر ہے
کسی بھی معاشرے کا مستقبل اس کی نئی نسل کے ذہنی معیار، اخلاقی تربیت اور فکری شعور سے وابستہ ہوتا ہے۔
اگر نوجوان اپنی تاریخ، تہذیب، علمی ورثے اور دینی تعلیمات سے ناواقف ہوں تو ان کی شخصیت میں ایک فکری خلا پیدا ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔
آج کا نوجوان صرف معلومات نہیں چاہتا، وہ دلیل چاہتا ہے۔ وہ صرف نصیحت نہیں چاہتا، وہ عملی نمونہ چاہتا ہے۔ وہ صرف یہ سننا نہیں چاہتا کہ اچھا انسان بنو بلکہ یہ بھی جاننا چاہتا ہے کہ اچھا انسان بننے کے اصول کیا ہیں؟
وہ پوچھتا ہے کہ کامیابی کی حقیقت کیا ہے؟ دولت اور کردار میں کیا فرق ہے؟ طاقت کا استعمال کس طرح ہونا چاہیے؟ معاشرے میں کمزور انسان کے حقوق کیا ہیں؟ والدین کی ذمہ داری کیا ہے؟ حکمران کی جواب دہی کس کے سامنے ہے؟ علم اور اخلاق کا باہمی تعلق کیا ہے؟
نہج البلاغہ ان سوالات پر غور و فکر کے لیے غیر معمولی مواد فراہم کرتی ہے۔
اگر ہمارے تعلیمی اداروں میں اس کے منتخب خطبات اور حکیمانہ کلمات پر مطالعاتی نشستیں منعقد ہوں، طلبہ کے درمیان تقریری و تحریری مقابلے ہوں، اس کے موضوعات پر تحقیقی مقالات لکھے جائیں اور نوجوانوں کو اس کے معارف سے روشناس کرایا جائے تو ایک مثبت فکری تبدیلی کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ نہج البلاغہ کو نوجوانوں کے سامنے ایک مشکل اور دور افتادہ کتاب کے طور پر نہیں بلکہ ایک زندہ فکری رہنما کے طور پر پیش کیا جائے۔
اس کے مضامین کو جدید تعلیمی ماحول، نوجوانوں کی ذہنی سطح اور عصرِ حاضر کے سوالات سے مربوط کیا جائے۔
ہمیں نوجوانوں کو یہ احساس دلانا ہوگا کہ حضرت علی علیہ السلام کا پیغام ماضی کی کوئی داستان نہیں بلکہ آج کے انسان کے لیے بھی زندہ رہنمائی ہے۔
گھر، خاندان اور معاشرتی زندگی، اصلاح کا پہلا میدان
کسی معاشرے کی تعمیر صرف حکومتوں، سیاسی اداروں یا تعلیمی نظاموں سے نہیں ہوتی۔ معاشرے کی حقیقی بنیاد گھر اور خاندان میں رکھی جاتی ہے۔
ایک اچھا خاندان ہی ایک اچھے معاشرے کی بنیاد بنتا ہے۔
والدین کی ذمہ داری، اولاد کی تربیت، ازدواجی تعلقات، ہمسایوں کے حقوق، معاشرتی رواداری، کمزوروں کے ساتھ حسنِ سلوک، سچائی، امانت، برداشت اور احترام ایسے موضوعات ہیں جو ہر گھر اور ہر معاشرے کی ضرورت ہیں۔
نہج البلاغہ کے اخلاقی اور تربیتی مضامین ان تمام موضوعات پر غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں۔
اگر ایک باپ اپنے بچوں کی تربیت میں عدل کو مقدم رکھے، ایک ماں اپنی اولاد میں سچائی اور دیانت کی بنیاد مضبوط کرے، ایک استاد علم کے ساتھ کردار سازی کو بھی اپنا مقصد بنائے اور ایک نوجوان اپنے والدین، اساتذہ اور معاشرے کے حقوق کو پہچانے تو معاشرتی اصلاح کا سفر گھر ہی سے شروع ہو سکتا ہے۔
اسی لیے نہج البلاغہ کا مطالعہ صرف علماء، خطباء اور دینی طلبہ تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔
اس کے معارف خواتین، والدین، اساتذہ، طلبہ، سماجی کارکنوں اور معاشرتی تربیت سے وابستہ ہر فرد تک پہنچنے چاہئیں۔
کیونکہ ایک بہتر معاشرہ اسی وقت وجود میں آتا ہے جب علم انسان کے ذہن سے نکل کر اس کے کردار میں اترتا ہے۔
کانفرنس کے بعد اصل امتحان شروع ہوگا
تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں بے شمار علمی اجتماعات منعقد ہوئے، بڑی بڑی کانفرنسیں ہوئیں، بلند پایہ خطابات کیے گئے اور اہم علمی موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ لیکن ان میں سے ہر اجتماع معاشرتی تبدیلی کا سبب نہیں بن سکا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ تقریر اور عمل کے درمیان ایک فاصلہ ہوتا ہے، جسے مستقل کوشش، علمی تسلسل اور اجتماعی عزم کے ذریعے ختم کیا جاسکتا ہے۔
سکردو کی پہلی نہج البلاغہ کانفرنس کی کامیابی بھی محض شرکاء کی تعداد، مقررین کی تقاریر یا تصویروں اور ویڈیوز سے نہیں ناپی جانی چاہیے۔
اس کی حقیقی کامیابی اس وقت سامنے آئے گی جب اس اجتماع سے ایک مستقل علمی و فکری تحریک جنم لے گی۔ جب کانفرنس کے بعد لوگ اپنے گھروں میں نہج البلاغہ کا مطالعہ شروع کریں گے، مدارس اور جامعات میں اس کے دروس کا اہتمام ہوگا، علماء اس کے منتخب موضوعات پر مسلسل گفتگو کریں گے، نوجوان اس کے مضامین پر تحقیق کریں گے اور میڈیا اس کے پیغام کو عام کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔
اس فکری مقصد کو عملی جامہ پہنانے کے لیے چند تجاویز پیش ہیں:
1۔ مطالعاتی حلقوں کا قیام: مساجد، مدارس، جامعات اور تعلیمی اداروں میں نہج البلاغہ کے باقاعدہ مطالعاتی حلقے قائم کیے جائیں۔
2۔ آسان اردو تشریح: اس کے منتخب خطبات، خطوط اور حکیمانہ کلمات کی مستند، عام فہم اور جامع تشریحات شائع کی جائیں۔
3۔ نوجوانوں کے لیے خصوصی پروگرام: کالجوں اور یونیورسٹیوں میں نہج البلاغہ کے موضوعات پر تقریری مقابلے، تحریری مقابلے، مکالمے اور تحقیقی نشستیں منعقد کی جائیں۔
4۔ اساتذہ اور علماء کی علمی تربیت: ایسے افراد تیار کیے جائیں جو اس کے مضامین کو مستند علمی بنیادوں پر جدید اور عام فہم انداز میں پیش کرسکیں۔
5۔ میڈیا اور سوشل میڈیا کا مؤثر استعمال:
نہج البلاغہ کے منتخب اقوال، مختصر تشریحات، ویڈیو پیغامات، معلوماتی پروگرام اور تحقیقی مضامین عوام تک پہنچائے جائیں۔
6۔ عصرِ حاضر کے موضوعات پر تحقیق: عدل و انصاف، حکمرانی، انسانی حقوق، معاشی نظام، اخلاقیات، تعلیم، سماجی ذمہ داری اور نوجوانوں کی تربیت جیسے موضوعات پر نہج البلاغہ کی روشنی میں تحقیقی کام کیا جائے۔
7۔ ترجمہ و اشاعت: اس کے مستند تراجم اور تشریحات کی دستیابی یقینی بنائی جائے اور مختلف زبانوں میں اس کے پیغام کی ترویج کی جائے تاکہ یہ علمی سرمایہ وسیع تر انسانی حلقوں تک پہنچ سکے۔
8۔ تعلیمی نصاب اور علمی سرگرمیوں میں شمولیت: منتخب خطبات اور حکیمانہ کلمات کو عمر اور تعلیمی سطح کے مطابق مطالعاتی سرگرمیوں کا حصہ بنایا جائے۔
اگر ان اقدامات پر سنجیدگی سے عمل کیا جائے تو یہ کانفرنس محض ایک روزہ اجتماع نہیں رہے گی بلکہ بلتستان میں ایک مستقل علمی و فکری تحریک کا نقطۂ آغاز بن سکتی ہے۔
عقیدت سے آگے بڑھ کر کردار کی تعمیر
ہمیں ایک بنیادی حقیقت سمجھنا ہوگی کہ نہج البلاغہ کا مقصد صرف اس کے الفاظ کی خوبصورتی سے محظوظ ہونا نہیں بلکہ اس کے پیغام کو اپنی زندگی میں جگہ دینا ہے۔
اگر ہم حضرت علی علیہ السلام کے عدل پر گفتگو کریں مگر اپنے معاملات میں انصاف نہ کریں، ان کی امانت داری کے واقعات بیان کریں مگر خود امانت میں خیانت کریں، ان کے علم کی عظمت بیان کریں مگر علم حاصل کرنے کی کوشش نہ کریں، ان کی انسان دوستی کا ذکر کریں مگر معاشرے کے کمزور طبقات کو نظر انداز کریں تو ہمارا مطالعہ اور ہماری گفتگو اپنے حقیقی مقصد سے دور رہ جائے گی۔
نہج البلاغہ ہمیں اپنی ذات کے احتساب کی دعوت دیتی ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ انسان کی حقیقی عظمت اس کے منصب، دولت، شہرت یا طاقت میں نہیں بلکہ اس کے کردار، علم، تقویٰ، عدل اور انسانیت کے ساتھ اس کے رویے میں پوشیدہ ہے۔
یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ زبان کی خوبصورتی سے زیادہ کردار کی خوبصورتی اہم ہے۔ دوسروں کو نصیحت کرنے سے پہلے اپنی اصلاح ضروری ہے۔ علم کا دعویٰ کرنے سے پہلے علم کے تقاضے پورے کرنا ضروری ہے اور دین سے محبت کا اظہار کرنے کے ساتھ دین کی اخلاقی تعلیمات پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔
اگر نہج البلاغہ کا مطالعہ ہمارے اندر یہ تبدیلی پیدا کر دے تو سمجھنا چاہیے کہ ہم نے اس کتاب سے حقیقی استفادہ شروع کر دیا ہے۔
جب نہج البلاغہ معاشرے میں زندہ ہو جائے گی
ذرا مستقبل کے ایک ایسے بلتستان کا تصور کیجیے جہاں ہر مدرسے میں نہج البلاغہ کے مطالعاتی حلقے قائم ہوں۔ جہاں یونیورسٹی کا طالب علم اس کے سیاسی اور سماجی افکار پر تحقیق کر رہا ہو۔ جہاں اساتذہ اس کے اخلاقی اصولوں کو طلبہ کی تربیت میں استعمال کر رہے ہوں۔ جہاں والدین اپنے بچوں کو اس کے حکیمانہ کلمات سمجھا رہے ہوں۔ جہاں نوجوان اس کے خطبات سے اپنے فکری سوالات کے جواب تلاش کر رہے ہوں۔
ایک ایسا معاشرہ جہاں سیاست دان مالک اشتر کے نام خط کو اپنے لیے رہنما اصول سمجھیں، سرکاری افسران عوامی خدمت کو اپنی ذمہ داری جانیں، تاجر دیانت کو کاروبار کی بنیاد بنائیں، اساتذہ علم کے ساتھ کردار سازی کو بھی اہمیت دیں اور عام شہری ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کریں۔
یہ کوئی خیالی یا ناممکن تصور نہیں۔ یہ دراصل ان تعلیمات کا عملی عکس ہے جنہیں نہج البلاغہ صدیوں سے انسانیت کے سامنے پیش کر رہی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ہم نے اس کتاب کو کس حد تک پڑھا، سمجھا اور اپنی زندگی میں نافذ کیا ہے۔
اگر ہم اپنی نئی نسل کو صرف حضرت علی علیہ السلام کی محبت کا درس دیں گے تو وہ محبت کے جذبات سے آشنا ہوگی، لیکن اگر ہم اسے حضرت علی علیہ السلام کے افکار، فرامین، حکمت، عدالت اور کردار سے بھی روشناس کرائیں گے تو یہ محبت ایک مضبوط فکری شناخت اور عملی کردار میں تبدیل ہوسکتی ہے۔
یہی وہ منزل ہے جہاں عقیدت معرفت بنتی ہے، معرفت شعور پیدا کرتی ہے اور شعور معاشرے کی تعمیر کا ذریعہ بنتا ہے۔
الماریوں سے نکال کر ذہنوں اور کرداروں تک
آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ ہم صرف نہج البلاغہ کی عظمت پر مزید مضامین لکھیں، اس کے فضائل بیان کریں یا اس کی ادبی حیثیت پر گفتگو کرتے رہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس کتاب کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں۔
اسے اپنے گھروں میں جگہ دیں، اپنے بچوں سے اس کے بارے میں گفتگو کریں، تعلیمی اداروں میں اس کا مطالعہ عام کریں، علماء کی مجالس میں اس کے مضامین پر علمی بحث کریں، نوجوانوں کو اس کے پیغام سے روشناس کرائیں اور اس کے افکار کو انسانی معاشرے کے سامنے مؤثر انداز میں پیش کریں۔
امام رضا علیہ السلام کا فرمان ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اہلِ بیت علیہم السلام کے کلام کی خوبصورتی دنیا تک پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے۔ حضرت علی علیہ السلام کا یہ ارشاد کہ انسان اکثر اسی چیز کا دشمن ہوتا ہے جس سے وہ ناواقف ہوتا ہے، ہمیں آگاہی اور تعارف کی اہمیت سمجھاتا ہے۔
نہج البلاغہ کی محجوریت کا احساس ہمیں اپنے علمی رویوں کا جائزہ لینے کی دعوت دیتا ہے اور اس کے خطبات، مکتوبات اور حکیمانہ کلمات ہمیں اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کی اصلاح کا راستہ دکھاتے ہیں۔
18 اکتوبر 2026ء کو جامعۃ النجف سکردو کے علامہ اقبال آڈیٹوریم میں منعقد ہونے والی یہ پہلی نہج البلاغہ کانفرنس اسی فکری سفر کی ایک اہم کڑی بن سکتی ہے۔
یہ کانفرنس صرف ایک کتاب کا تعارف نہیں بلکہ ایک عظیم فکری ورثے کی طرف واپسی کی دعوت ہے۔ یہ صرف ایک علمی اجتماع نہیں بلکہ اپنی نئی نسل کو اپنے علمی و تہذیبی تشخص سے جوڑنے کی کوشش ہے۔ یہ صرف ماضی کی عظمت کا تذکرہ نہیں بلکہ مستقبل کی تعمیر کا ایک امکان ہے۔
اب سوال یہ نہیں کہ نہج البلاغہ میں کیا لکھا ہے؟
اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے اسے کتنا پڑھا؟
سوال یہ نہیں کہ حضرت علی علیہ السلام نے کیا فرمایا؟
اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے ان کے فرامین کو اپنی زندگی میں کتنی جگہ دی؟
سوال یہ نہیں کہ دنیا اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات سے کیوں ناواقف ہے؟
اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے ان تعلیمات کو دنیا تک پہنچانے کے لیے کیا کردار ادا کیا؟
ہمیں نہج البلاغہ کو الماریوں سے نکال کر ذہنوں تک، ذہنوں سے کردار تک اور کردار سے معاشرے تک پہنچانا ہوگا۔
ہمیں اس کے الفاظ کو اپنی زبانوں سے آگے بڑھا کر اپنے اعمال میں منتقل کرنا ہوگا۔ ہمیں اس کے عدل کو اپنے فیصلوں میں، اس کے اخلاق کو اپنے رویوں میں، اس کی حکمت کو اپنی سوچ میں اور اس کی انسان دوستی کو اپنے اجتماعی معاملات میں جگہ دینی ہوگی۔
کیونکہ قومیں صرف اپنے ماضی کی عظمت بیان کرنے سے عظیم نہیں بنتیں۔ وہ اس وقت عظیم بنتی ہیں جب اپنے ماضی کے علمی و فکری سرمائے کو حال کی تعمیر اور مستقبل کی رہنمائی کے لیے استعمال کرتی ہیں۔
حضرت علی علیہ السلام سے محبت کا ایک زندہ اور عملی اظہار یہی ہے کہ ہم ان کے کلام کو سمجھیں، ان کی فکر سے روشنی حاصل کریں اور ان کے بتائے ہوئے اصولوں پر اپنی زندگیوں کی تعمیر کریں۔
شاید اب وقت آگیا ہے کہ ہم صرف علی کے نام پر فخر کرنے کے بجائے علی کے کلام سے اپنی زندگیوں کو سنوارنے کا عزم کریں۔
صرف علی کی شجاعت کے قصے سنانے کے بجائے ان کے عدل کو اپنے معاشرے میں زندہ کریں۔ صرف ان کی عبادت کا تذکرہ کرنے کے بجائے ان کی بندگی سے اپنے کردار کو روشن کریں۔ صرف ان کی حکمت کو سراہنے کے بجائے اپنی نسلوں کو حکمت و معرفت کا وارث بنائیں۔
نہج البلاغہ کا حقیقی سفر کتاب کے صفحات سے شروع ہو کر انسان کے کردار پر ختم نہیں ہوتا بلکہ انسان کے کردار سے آگے بڑھ کر پورے معاشرے کی تعمیر تک پہنچتا ہے۔ اور یہی وہ منزل ہے جہاں حرفِ علی، تعمیرِ انسانیت کا عنوان بن جاتا ہے۔
آخری گزارش
دنیا کو اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات سے روشناس کرانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم پہلے خود ان تعلیمات سے حقیقی معرفت حاصل کریں۔ نہج البلاغہ اس معرفت کا ایک عظیم سرچشمہ ہے۔ اسے پڑھنا، سمجھنا، اس کی تشریح کرنا، عام کرنا اور عملی زندگی میں نافذ کرنا ہماری دینی، علمی، اخلاقی اور معاشرتی ذمہ داری ہے۔ سکردو کی پہلی نہج البلاغہ کانفرنس اسی ذمہ داری کی یاد دہانی اور ایک نئی فکری تحریک کے آغاز کا موقع ہے۔










آپ کا تبصرہ